
ملکی سیاسی صورتحال کی وجہ سے روپے کا کیا حال ہو رہا ہے مزید پاکستانی روپے امریکی ڈالر کے مقابلے میں کمزور
پاکستان کی سیاسی صورتحال ایک طرف ملک کی معاشی حالت کچھ بہتر نہیں ہے دوسری طرف جو عدم اعتماد کا شور ہے اس کی وجہ سے بھی ملکی معیشت خراب ہو رہی ہے ۔ ڈالر جس کو بہت کوشش کی جاتی ہے کہ وہ اسٹیبل رہے لیکن حالات کچھ ایسے بن جاتے ہیں ڈالر سٹیبل رہنا ناممکن ہو جاتا ہے۔ عمران خان نے ایسا کام کیا ہے جس سے اپوزیشن کو بڑا جھٹکا لگا ہے عمران خان نے عثمان بزدار سے استعفی لیا اس کے بعد چوہدری پرویز الہی کو پنجاب کا نیا وزیراعلی نامزد کردیا ہے ۔ جس کے بعد ملک میں ایک ایسی غیر یقینی صورتحال دوستوں پیدا ہوئی ہے اس کا اثر اب ڈالر پر بھی پڑھنا شروع ہو گیا ہے اور ڈالر ملکی تاریخ میں بلند ترین سطح پر پہنچ چکا ہے پاکستانی روپیہ مزید کمزور ہوگیا ہے ۔ ڈالر کی قیمت ملکی تاریخ میں پہلی دفعہ 182 روپے کی سطح پر چلی گئی کاروباری ہفتے کے پہلے ہی دن انٹر بینک میں روپے کے مقابلے میں ڈالر 182 سے تجاوز کر گیا جبکہ اوپن مارکیٹ میں ڈالر مہنگا ہوگیا پاکستان کی رپورٹ کے مطابق پیر کے روز انٹر بینک میں امریکی ڈالر کی قیمت میں 40 پیسے کا اضافہ ہوا۔ جس سے ڈالر کی قیمت 181 ہوگی ایک دن میں پاکستانی روپے کی قدر میں گراوٹ ہوئی جبکہ فاریکس ایسوسی ایشن آف پاکستان کی رپورٹ کے مطابق پیر کو مقامی اوپن کرنسی مارکیٹ میں 30 فیصد کے اضافے سے ڈالر کی قیمت خرید ورائنٹی روپے سے بڑھ کر والے ٹون روپے اور قیمت فروخت سے بڑھ کر ایک اعشاریہ پچاس روپے ہوگئے کے بعد ڈالر ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ چکا ہے ۔
