
تین ماہ میں انتخابات ہونا ناممکن ہے الیکشن کمیشن کا بڑا بیان سامنے آگیا
عام انتخابات پاکستان میں تین ماہ کے اندر کروانے کا اعلان کیا تھا حکومت جو اب ختم ہو چکی ہے اور اسمبلیاں ٹوٹ چکی ہے ۔ لیکن اس کو ابھی سپریم کورٹ میں چیلنج کیا گیا ہے اسمبلیاں بحال کی جائے اور ملک نے جو سیاسی بے چینی ہے اس کو ختم کیا جائے ۔ اپوزیشن کا کہنا ہے کہ سپیکر کی رولنگ کو غیر آئینی قرار دے کر اسمبلی بحال کر دی جائے ۔ دوسری جانب ڈان نیوز نے ایک رپورٹ جاری کی ہے جس کے مطابق پاکستان میں تین ماہ کے اندر اندر الیکشن کروانا ممکن ہے یہ اپنی رپورٹ میں چھاپا ہے ڈان نیوز نے اور حوالہ دیا گیا ہے الیکشن کمیشن کا لیکن اس میں الیکشن کمیشن کا باضابطہ بیان سامنےآ گیا ہے ۔ وزیراعظم عمران خان کے تین ماہ میں نئے انتخابات کے اعلان کے حوالے سے الیکشن کمیشن نے وضاحت جاری کردی ہے ترجمان الیکشن کمیشن آف پاکستان کا کہنا ہے کہ آئندہ عام انتخابات تین ماہ میں نہ کروانے کی خبروں میں صداقت نہیں ترجمان کا کہنا ہے کہ انتخابات کرانا الیکشن کمیشن کی آئینی ذمہ داری ہے۔ ہم ہر وقت تیار ہے ترجمان کی جانب سے کہا گیا کہ الیکشن کمیشن نے الیکشن کی تیاری سے متعلق ہنگامی اجلاس بلایا ہے اجلاس میں عام انتخابات کی صورت میں تیاریوں کا جائزہ لیا جائے گا ترجمان کی جانب سے مزید کہا گیا کہ الیکشن کمیشن آئین اور قانون کے مطابق ذمہ داری پوری کرے گا ۔ یعنی کے الیکشن کمیشن نے ڈان نیوز کی خبریں مسترد کر دی ہے اور کہاں ہے کہ یہ بالکل غلط ہے کہ وزیراعظم عمران خان نے تین اپریل کو صدر مملکت کو اسمبلیاں تحلیل کرنے کی تجویز بجوات ہوئے تین ماہ میں نئے انتخابات کروانے کا اعلان کیا تھا ۔
